نئی دہلی، 25 دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے جمعہ کے روز کسانوں کے احتجاج کے پس منظر میں حزب اختلاف پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حملے کا جواب دیتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ مرکزی حکومت کسانوں کو’تھکا دو، بھگا دو‘ کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی سرکار کو بہانہ اورپروگرام بندکرکے تینوں کالے قوانین کو واپس لے کر کسانوں سے معافی مانگنی چاہئے۔ دراصل وزیر اعظم مودی نے جمعہ کے روز کسانوں اور حکومت کے درمیان تینوں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی حکومت کے مابین جاری تعطل کی آڑ میں سیاسی فوائد لینے والے لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔
انہوں نے کہا کہ اب کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) پر تشویش کی جگہ تشدد سے متعلقہ ملزمان کی رہائی اور ہائی ویز کو ٹول فری بنانے جیسے غیرمتعلق امور پرحاوی ہوچکے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری سرجے والا نے وزیر اعظم کے حملے کا جواب دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایاکہ سخت سردی میں 31 دن سے ملک کا کسان دہلی کے دروازے پر انصاف کی التجا کر رہا ہے۔ اب تک 44 کسان ہلاک ہوچکے ہیں مگرکارپوریٹ کی مودی حکومت کا دل نہیں نرم ہوتاہے۔
انہوں نے دعوی کیاکہ وزیر اعظم مودی اور بی جے پی حکومت کسانوں کے لئے ’تھکا دو اور بھگا دو‘ کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔کانگریس لیڈر نے الزام لگایاکہ کسانوں کی راہ میں سڑکیں کھودی جارہی ہیں، کسانوں پر موسم سرما میں واٹر کینن چلانے کی بات کی جارہی ہے اور وزیر اعظم مودی ایک بار پھر سمان ندھی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔سرجے والا نے کہاکہ ہندوستان میں زرعی مردم شماری 2015-16 کے مطابق، کل 14.64 کروڑ کسان ہیں، جو 15.78 کروڑ ہیکٹر رقبے پر کاشت کرتے ہیں۔ کسان سمان نیدھی اسکیم میں سال 2018-19 میں، 88000 کروڑ روپے کے بجائے، صرف 6005 کروڑ روپے کسانوں کے کھاتے میں ڈالے گئے۔ اسی طرح انتخابی سال 2019-20 اور 4920-21 تک اب تک 49196 کروڑ روپے ڈالے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آج بی جے پی کسانوں کو دہشت گرد، ٹکڑے ٹکڑے گینگ، گمراہ گروہ، خالصتانی کہا جارہا ہے اور آپ ان کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ شرمناک بات ہے کہ وزیر زراعت نے یہاں تک کہ اپنے خط میں کسانوں کو ایک سیاسی کٹھ پتلی بھی کہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہاکہ مودی سرکار کو بہانہ بنانے، کسانوں سے معافی مانگنے، پروگرام روکنے اور تینوں کالے قوانین واپس لینا چاہئے۔